اسلام آباد — پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بیرونی مالی وسائل، برآمدات اور ساختی اصلاحات پر بیک وقت کام کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان 2027 میں موجودہ انتظام کی تجدید کے وقت چین کے ساتھ 30 ارب یوآن کی کرنسی سویپ لائن میں توسیع کی درخواست کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
پاکستان امریکی اداروں کے ساتھ بھی ممکنہ مالی تعاون پر بات چیت کر رہا ہے۔ حکومت کی توجہ زرمبادلہ کے ذخائر، توانائی کے اخراجات اور طویل مدتی اقتصادی استحکام پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب پاکستان اپنی برآمدی بنیاد کو روایتی اشیا سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق خدمات، خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، ملک کی برآمدی حکمت عملی میں بڑھتی ہوئی اہمیت حاصل کر رہی ہیں۔
حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو برآمدی ویلیو چین سے زیادہ مؤثر طریقے سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
پاکستان کی اقتصادی پالیسی کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ قلیل مدتی مالی استحکام کے ساتھ ایسی برآمدی صلاحیت پیدا کی جائے جو طویل مدت میں بیرونی مالی ضروریات پر انحصار کم کرسکے۔