اسلام آباد — پاکستان میں مون سون 2026 کے دوران بارش اور سیلاب کے خطرات نے ملک کی موسمیاتی کمزوری اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کو دوبارہ قومی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) ستمبر کے دوران مون سون کی صورت حال پر مسلسل روزانہ رپورٹس جاری کرتی رہی ہے۔

ستمبر کے آخری ہفتے میں پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے لیے بارش یا سیلاب سے متعلق انتباہات بھی جاری کیے گئے۔

پاکستان پہلے ہی شدید موسمی واقعات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور حکومت نے بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی لچک اور آفات سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے مالی وسائل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

موسمیاتی خطرات کا اثر صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں رہتا۔ سیلاب زرعی پیداوار، سڑکوں، پلوں، گھروں، اسکولوں اور مقامی معیشتوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین اور حکام کے لیے پیشگی انتباہی نظام، محفوظ تعمیرات، بہتر نکاسی آب اور مقامی سطح پر ہنگامی تیاری طویل مدتی حکمت عملی کے اہم حصے بنتے جا رہے ہیں۔