اسلام آباد — پاکستان کے تاریخی قلعے، آثار قدیمہ اور ثقافتی مقامات عالمی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے نئی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

یونیسکو کے عالمی ورثہ مرکز کے مطابق پاکستان نے 2026 میں روات قلعہ سمیت متعدد تاریخی مقامات کو اپنی عارضی عالمی ورثہ فہرست میں پیش کیا۔

روات قلعہ اسلام آباد کے قریب تاریخی گرینڈ ٹرنک روڈ کے علاقے میں واقع ایک قلعہ بند کاروان سرائے اور دفاعی کمپلیکس ہے۔ یونیسکو کی دستاویزات کے مطابق اس مقام کا تعلق تقریباً پندرہویں صدی سے جوڑا جاتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی چھ ثقافتی مقامات رکھتا ہے جو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں موئن جو دڑو، ٹیکسلا، لاہور کا قلعہ اور شالامار باغات، مکلی کے تاریخی آثار، تخت بھائی اور روہتاس قلعہ شامل ہیں۔

نئے مقامات کی عارضی فہرست میں شمولیت خود بخود عالمی ورثہ کا درجہ نہیں دیتی، بلکہ مستقبل میں ممکنہ نامزدگی کی جانب ابتدائی مرحلہ ہوتی ہے۔

ان تاریخی مقامات کا مؤثر تحفظ پاکستان کے لیے صرف سیاحت کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کی مختلف تہذیبوں، تجارتی راستوں اور تاریخی ادوار کی یادگاروں کو آنے والی نسلوں تک محفوظ رکھنے کا سوال بھی ہے۔